نئی دہلی21 مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں دو لوک سبھا سیٹوں پر اہم ضمنی انتخاب ہار جانے کے بعد بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کی کھیل میں واپسی ہوتی نظر آرہی ہے ۔ جب سماج وادی پارٹی کے سات اراکین اسمبلی نے ایک اہم پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ راجیہ سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے ایسا ہونا سماجوادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کے لئے اچھی خبر نہیں ہے، اور نہ ہی یہ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کے خوش خبری ہے، جس سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں ایک نشست حاصل کرنے کا خواب ٹوٹتا نظر آنے لگا ہے۔ چند روز قبل اکھلیش یادو اور مایاوتی نے 25 سال کی دشمنی کو بھلا دیا تھا، اور بی جے پی کا گڑھ کہی جانے والی دو لوک سبھا سیٹوں پر سماج وادی پارٹی کے امیدوار جیت گئے تھے۔ اس کے بعد راجیہ سبھا انتخابات کے دوران ’اس ہاتھ دے، اس ہاتھ لے‘ کے معاہدے کے تحت اکھلیش یادو کے ممبر اسمبلی مایاوتی کی پارٹی کو حمایت دینے والے ہیں۔ جمعہ کو راجیہ سبھا کی 31 میں 10 سیٹوں کا فیصلہ اترپردیش میں ہوگا، جہاں BJP نے نو امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جبکہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج وادی پارٹی نے ایک ایک امیدوار کو اتارا ہے۔ اتر پردیش میں ہر امیدوار کو 37 ممبران اسمبلی کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ بی جے پی کم از کم آٹھ سیٹیں جیت جانے کے تئیں مکمل پر اعتماد ہے، کیونکہ اس کے پاس اسمبلی میں 311 رکن ہیں۔ ادھر47 ممبران اسمبلی والی سماجوادی پارٹی بھی ایک امیدوار کو جتا ئے گی۔ سماجوادی پارٹی نے کہا تھا کہ اس کے 10 اضافی ممبر اسمبلی مایاوتی کی پار ٹی کی حمایت کریں گے۔جس کے پاس کل 19 ممبران اسمبلی ہیں جو ضرورت سے بہت کم ہیں۔پس کانگریس کے سات اور اجیت سنگھ کی پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کی حمایت سے بی ا یس پی کا راجیہ سبھا امیدوار جیت سکتا ہے۔ ابھی سماجوادی پارٹی کو اپنے لوگوں کو متحد رکھنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان سات رکن اسمبلی جن میں اکھلیش یادو کے چچا شیو پال یادو بھی شامل ہیں، بدھ کی صبح لکھنؤ میں ہوئی ایک اہم میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ ماضی میں کانگریس، بی ایس پی اور ایس پی میں رہ چکے اور حال ہی میں بی جے پی کے رکن بنے نریش اگروال کے بیٹے بھی غیر حاضر رہے سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی میں شامل تھے۔ پارٹی کے ایک رہنما کو بھروسہ ہے کہ یہ تمام اراکین ایک لگژری ہوٹل میں منعقدہ عشائیہ میں شرکت کریں گے۔ سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی پارس ناتھ یادو نے کہاکہ اکھلیش یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی متحد ہے، جو اس وقت نظر نہیں آئے، وہ بعد میں آ جائیں گے ۔ ووٹنگ کے دن ہمارے تمام ممبران اسمبلی ایک ساتھ ہوں گے۔لیکن پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں نریش اگروال کے بیٹے کے ووٹ کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ باقی ممبران اسمبلی میں سے ایک جیل میں ہیں، ذرائع کے مطابق محمد اعظم خان اور ان کے بیٹے اجلاس میں شامل نہیں ہوئے، لیکن ان کی حمایت ہمارے ساتھ ہے۔ شیو پال یادو اور دو دیگر ممبران اسمبلی بھی ہمارے رابطے میں ہیں، اور ہمارے ہی حق میں ووٹ کریں گے۔ گزشتہ سال ہوئے صدارتی انتخابات کے دوران شیو پال یادو کے قریبی کم از کم سات اراکین اسمبلی نے بی جے پی کے امیدوار رام ناتھ کووند کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ بی جے پی پوری کوشش کر رہی ہے کہ مایاوتی کا امیدوار ہار جائے، اور اسی لیے وہ مغربی اتر پردیش کے انل اگروال کی حمایت کر رہی ہے۔ ورنہ یہ سیٹ ضرور بی ایس پی جیت سکتی تھی، اب چونکہ بی جے پی مقابلے کی کوشش میں ہے ؛لہٰذا ریاست میں کراس ووٹنگ ہونے اور یہاں تک کہ خرید و فروخت کے بھی آثار نظر آنے لگے ہیں۔بدھ کی شام کو بی جے پی بھی اپنے تمام ممبران اسمبلی اور راجیہ سبھا امیدواروں کے ساتھ ملاقات کرنے جا رہی ہے۔اس تناظر میں منگل سے اب تک امت شاہ نے تمام چالیں ایسی چلی ہیں، جو ان کی جیت کے آثار پیدا رہی ہیں ، وہ ایک ناراض حلیف پارٹی کو منانے میں کامیاب رہے ہیں، اور بی جے پی کے راجیہ سبھا امیدوار کے لئے ان چار ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔ اور اب بدھ کو سماج وادی پارٹی کے اجلاس میں سے سات اراکین اسمبلی کی غیر حاضری کے پس پردہ امیت شاہ کا کردادصاف طور پر نظر آرہا ہے ۔